IGNOU BUDC 106 SOLVED ASSIGNMENT HINDI
₹80
₹30
BUDC 106: خواجہ الطاف حسین حالی کا خصوصی مطالعہ
| Title Name | IGNOU BUDC 106 SOLVED ASSIGNMENT HINDI |
|---|---|
| Type | Soft Copy (E-Assignment) .pdf |
| University | IGNOU |
| Degree | BACHELOR DEGREE PROGRAMMES |
| Course Code | BAUDH |
| Course Name | Bachelor of Arts (Honours) Urdu |
| Subject Code | BUDC 106 |
| Subject Name | خواجہ الطاف حسین حالی کا خصوصی مطالعہ |
| Year | 2026 2027 |
| Session | - |
| Language | English Medium |
| Assignment Code | BUDC 106/Assignment-1/2026 2027 |
| Product Description | Assignment of BAUDH (Bachelor of Arts (Honours) Urdu) 2026 2027. Latest BUDC 106 2026 Solved Assignment Solutions |
| Last Date of IGNOU Assignment Submission | Last Date of Submission of IGNOU BEGC-131 (BAG) 2025-26 Assignment is for January 2026 Session: 30th September, 2026 (for December 2025 Term End Exam). Semester Wise January 2025 Session: 30th March, 2026 (for June 2026 Term End Exam). July 2025 Session: 30th September, 2025 (for December 2025 Term End Exam). |
| Format | Ready-to-Print PDF (.soft copy) |
📅 Important Submission Dates
- July 2026 Session: 30th April, 2027
- January 2027 Session: 31st October, 2026
Why Choose Our Solved Assignments?
• Guidelines: Strictly follows 2025-26 official word limits.
• Scoring: Designed to help students achieve 90+ marks.
📋 Assignment Content Preview
BUDC 106 (July 2026 - January 2027) - URDU
BUDC-106: خواجہ الطاف حسین حالی کا خصوصی مطالعہ
ٹیوٹر مارکڈ اسائنمنٹ
کورس کوڈ (Course Code): BUDC-106
کورس ٹائٹل (Course Title): خواجہ الطاف حسین حالی کا خصوصی مطالعہ
اسائنمنٹ کوڈ (Assignment Code): BUDC-106/BAUDH/BAFUD/TMA/July 2026–Jan 2027
کوریج (Coverage): All Blocks
مارکس (Marks): 100
ہدایات: سبھی حصوں سے تمام سوالوں کے جوابات مطلوب ہیں۔ سوالوں کے نمبر ان کے سامنے درج ہیں۔
(حصہ الف)
سوال 1– "مقدمہ شعر و شاعری" کا تعارف پیش کیجیے۔ (10)
(یا)
"یادگارِ غالب" پر ایک نوٹ لکھیے۔
سوال 2– درج ذیل اقتباس کی تشریح مع سیاق و سباق کیجیے۔ (10)
"مروت اور لحاظ مرزا کی طبیعت میں بدرجہ غایت تھا۔ باوجود یہ کہ اخیر عمر میں وہ اشعار کی اصلاح دینے سے گھبرانے لگے تھے۔ بایں ہمہ کبھی کسی کا قصیدہ یا غزل بغیر کسی اصلاح کے واپس نہ کرتے تھے۔ ایک صاحب کو لکھتے ہیں۔ "جہاں تک ہو سکا احباب کی خدمت بجا لایا۔ اوراق اشعار لیٹے لیٹے دیکھتا تھا اور اصلاح دیتا تھا۔ اب نہ آنکھ سے اچھی طرح سوجھے نہ ہاتھ سے اچھی طرح لکھا جائے۔ کہتے ہیں کہ شاہ شرف بو علی قلندر کو بہ سبب کبر سن کے خدائے فرض اور پیغمبر نے سنت معاف کر دی تھی۔ میں متوقع ہوں کہ میرے دوست بھی خدمت اصلاح اشعار سے مجھے معاف کریں۔ خطوط شوقیہ کا جواب جس صورت سے ہو سکے گا، لکھ دیا کروں گا۔" باوجود اس کے بھی لوگ مرزا کو برابر ستاتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ کہیں مرزا تفتہ نے یہ لکھ دیا تھا کہ آپ نے بہ سبب ذوقِ سخن کے اصلاح اشعار منظور فرمائی تھی۔ اس کے جواب میں لکھتے ہیں۔ "لاحول ولا قوۃ! کس ملعون نے بہ سبب ذوق شعر کے اشعار کی اصلاح منظور رکھی؟! اگر میں شعر سے بیزار نہ ہوں تو میرا خدا مجھ से بیزار۔ میں نے بطریق تبر درویش بر لب درویش لکھا تھا جیسے ابھی جو روزے خاوند کے ساتھ مرتا بھرتا اختیار کرتی ہے، میرا تمہارا وہ معاملہ ہے۔"
(یا)
درج ذیل اقتباس کا مفہوم مع سیاق و سباق بیان کیجیے۔
"سید عباس نے یہ وصیت نامہ پڑھ کر اپنے تربیت پانے کا حال بیان کرنا شروع کیا۔ وہ کہتا تھا کہ: آٹھ نو برس کی عمر میں میری والدہ نے مجھ کو مکتب میں نہیں بٹھایا بلکہ آپ ہی پڑھاتی لکھاتی رہیں۔ تین گھنٹے دو پہر سے پہلے اور دو گھنٹے دوپہر کے بعد، یہ پانچ گھنٹے تو میرے پڑھنے لکھنے کے تھے۔ اس کے سوا صبح سے لے کر رات کے دس بجے تک میرے تمام اوقات اور کاموں میں صرف ہوتے تھے۔ صبح کی نماز کے بعد ایک ایک آدمی کو ساتھ لے کر جنگل ہوا کھانے جاتا تھا اور سورج نکلتے ہی الٹا گھر آتا تھا۔ وہاں سے آتے ہی گرم پانی سے نہا کر اجلے کپڑے پہنتے اور جو کچھ ناشتہ تیار ہوتا وہ کھایا، اس میں اکثر ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔ اب میرے پڑھنے کا وقت آیا۔ دس بجے تک مجھ کو اماں جان برابر پڑھاتی رہتی تھیں، اس کے بعد میں اور میری انا کا بیٹا نظام السلام جو میرے کوکا سے عمر میں ایک برس بڑا تھا، گیارہ بجے کے برابر اصطبل میں کھیلتے تھے۔ اس میں دو چار محلے کے لڑکے اور بھی ہمارے ساتھ کھیلنے کو آجاتے تھے۔ گیارہ بجے وہاں سے آکر کھانا کھایا، پھر بارہ بجے تک اشعار دیکھتا رہا، اس کے بعد ہمارے पड़ोस में एक خوش نویس रहते تھے، ان کے پاس جاکر نستعلیق کی مشق کرتا تھا۔ ایک بجے وہاں سے آتا تھا تو ظہر کی نماز پڑھ کر تین بجے تک پھر اماں جان پڑھاتی رہتی تھیں۔ تین بجتے ہی پڑھنے سے مجھے چھٹی ہو جاتی تھی۔ اب..."
❓ Frequently Asked Questions (FAQs)
A: Immediately after payment, the download link will appear and be sent to your email.
Q: Is this hand-written or typed?
A: This is a professional typed computer PDF. You can use it as a reference for your handwritten submission.
Get the full solved PDF for just Rs. 15